مقرر

زاہد

@Xahid806

7
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
زاہد کی آواز میں

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

کلام: ادا جعفری · محفل: ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری) · 2025-12-12

«جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا

جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکیکسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا Jis bagh ka pauda hai idhar kyun nahin lagta سعید شارق آواز میں دستیاب
  2. 02 اعتراف Aitraaf اسرار الحق مجاز آواز میں دستیاب
  3. 04 غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے Gham-e-Ashiqi Se Keh Do Rah-e-Aam Tak Na Pahunche شکیل بدیوانی آواز میں دستیاب
  4. 05 خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے Khayal o khwab se bahar utha ke rakh do mujhe زین شکیل آواز میں دستیاب
  5. 06 تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے Takhayyul aur hai, nadīda beeni aur hoti hai عرفان ستار آواز میں دستیاب
  6. 07 نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے Na aankhein hi jhapakta hai na koi baat karta hai وزیر آغا آواز میں دستیاب