زاہد کی آواز میں
جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا
کلام: ادا جعفری · محفل: ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری) · 2025-12-12
«جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔
جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا
جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکیکسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا