خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے
کلام: زین شکیل
خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے !یہی روا ہے کہ اب تم ! بھُلا کے رکھ دو مجھے !
ہوس کے مارے ہوئے لب مجھے بلا رہے ہیں !وہ آنکھ دیکھ رہی ہے !!!! چھپا کے رکھ دو مجھے !
خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: زین شکیل
خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے !یہی روا ہے کہ اب تم ! بھُلا کے رکھ دو مجھے !
ہوس کے مارے ہوئے لب مجھے بلا رہے ہیں !وہ آنکھ دیکھ رہی ہے !!!! چھپا کے رکھ دو مجھے !