جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا
کلام: ادا جعفری
جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا
جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکیکسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا