9 اشعار

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے

Khayal o khwab se bahar utha ke rakh do mujhe

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے

«خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے زاہد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے !یہی روا ہے کہ اب تم ! بھُلا کے رکھ دو مجھے !

ہوس کے مارے ہوئے لب مجھے بلا رہے ہیں !وہ آنکھ دیکھ رہی ہے !!!! چھپا کے رکھ دو مجھے !

تمہارے ہاتھ ہے ! مٹی مِری ! نصیب مِرا !تمہاری مرضی ہے ! جو بھی بنا کے رکھ دو مجھے !

نجف کا دیپ ہوں میں ! بجھ نہیں سکوں گا کبھی !تم آندھیوں میں بھی چاہے جلا کے رکھ دو مجھے !

میں اب گما ہوا ! خود کو کہاں کہاں ڈھونڈوں ؟کہا تھا ! رکھنا جہاں ہے ! بتا کے رکھ دو مجھے !

میں چھُو کے چھوڑا ہوا، ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں !تمہیں یہ کس نے کہا تھا اٹھا کے رکھ دو مجھے !

میں جل کے راکھ بھی ہو جاؤں ! مسئلہ نہیں ! پر !میں کام آتا رہوں گا ! بُجھا کے رکھ دو مجھے !

تمہارے ہاتھ سے رکھے ہوئے کی خیریں ہوں !جو پاس رکھنا نہیں دور جا کے رکھ دو مجھے !

تمہاری میز پہ رکھا ہوا میں خط ہی سہی !اداس ہو کے پڑھو، مسکرا کے رکھ دو مجھے !

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں