ایمان کی آواز میں
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
کلام: مجید امجد · محفل: کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد · 2026-01-24
«اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا» مجید امجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتامیں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا
خیال صبحوں کرن ساحلوں کی اوٹ سدامیں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا