بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے
کلام: مجید امجد
بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئےیہ ایک صبح تو ہے سیر بوستاں کے لئے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گیفراغتیں بھی اس اک صدق رائیگاں کے لئے
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد
مہمان شاعر: مجید امجد
بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئےیہ ایک صبح تو ہے سیر بوستاں کے لئے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گیفراغتیں بھی اس اک صدق رائیگاں کے لئے
برہنہ سر ہیں برہنہ تن ہیں برہنہ پا ہیںشریر روحیں
ضمیر ہستی کی آرزوئیںچٹکتی کلیاں
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتامیں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا
خیال صبحوں کرن ساحلوں کی اوٹ سدامیں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا