ایمان کی آواز میں
ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے
کلام: مجروح سلطانپوری · محفل: میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری · 2026-01-31
«ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔
ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئےہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئے
خبط ہے اے ہم نشیں عقل حریفان بہارہے خزاں ان کی انہیں آئینہ دکھلائے ہوئے