مقرر · میزبان

ایمان

@_imaan_n

248
پیش کردہ کلام
128
محفلوں میں شرکت
ایمان کی آواز میں

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

کلام: ندا فاضلی · محفل: ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی · 2026-02-02

«کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئیجس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی

جس سے جب تک ملے دل ہی سے ملے دل جو بدلا تو فسانہ بدلارسم دنیا کو نبھانے کے لیے ہم سے رشتوں کی تجارت نہ ہوئی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا Hai Tayaqqun Mein Bhi Ziyan Ulta نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی Lamhay Shumarne Se Rehai Mujhe Mili نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر Bah raha hai zamin ke dhare par نصیر احمد ناصر غزل
  4. 04 تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے Tumhaari chahat ki chandni se har ek shab-e-gham sanwar gai hai ضیاء جالندھری غزل
  5. 05 شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے Sham-e-haq shoabada-e-harf dikha kar le jae ضیاء جالندھری غزل
  6. 06 صبح سے شام تک Subh se sham tak ضیاء جالندھری نظم
  7. 07 یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں Ye mohabbat ki jawani ka saman hai ki nahin اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  8. 08 ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک Zulm sahte rahe shukr karte rahe aai lab tak na ye dastan aaj tak اختر انصاری اکبر آبادی غزل