چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں
کلام: ندا فاضلی
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیںگھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں
آنے والے بیاض میں اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیںسب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں