مقرر · میزبان

ایمان

@_imaan_n

248
پیش کردہ کلام
128
محفلوں میں شرکت
ایمان کی آواز میں

نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے

کلام: ظفرگورکھپوری · محفل: ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری) · 2025-11-21

«نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہےکوئی تو ہے جو میرا کام سارا کر رہا ہے

اس آبادی میں کچھ ہوں گے جنہیں پیاری ہے دنیابڑا حصہ تو مجبوراً گوارا کر رہا ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا Hai Tayaqqun Mein Bhi Ziyan Ulta نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی Lamhay Shumarne Se Rehai Mujhe Mili نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر Bah raha hai zamin ke dhare par نصیر احمد ناصر غزل
  4. 04 تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ہے Tumhaari chahat ki chandni se har ek shab-e-gham sanwar gai hai ضیاء جالندھری غزل
  5. 05 شمع حق شعبدۂ حرف دکھا کر لے جائے Sham-e-haq shoabada-e-harf dikha kar le jae ضیاء جالندھری غزل
  6. 06 صبح سے شام تک Subh se sham tak ضیاء جالندھری نظم
  7. 07 یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں Ye mohabbat ki jawani ka saman hai ki nahin اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  8. 08 ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک Zulm sahte rahe shukr karte rahe aai lab tak na ye dastan aaj tak اختر انصاری اکبر آبادی غزل