ایمان کی آواز میں
وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے
کلام: جاوید اختر · محفل: مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر · 2026-02-13
«وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔
وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہےزمین سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہے
جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں وہ بے خبر ہیںکہ میری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے