6 اشعار

وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے

Woh dhal raha hai to yeh bhi rangat badal rahi hai

وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے

«وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہےزمین سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہے

جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں وہ بے خبر ہیںکہ میری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے

میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکنمرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے

نہ جلنے پاتے تھے جس کے چولھے بھی ہر سویرےسنا ہے کل رات سے وہ بستی بھی جل رہی ہے

میں جانتا ہوں کہ خامشی میں ہی مصلحت ہےمگر یہی مصلحت مرے دل کو کھل رہی ہے

کبھی تو انسان زندگی کی کرے گا عزتیہ ایک امید آج بھی دل میں پل رہی ہے

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں