مقرر · میزبان

ایمان

@_imaan_n

240
پیش کردہ کلام
125
محفلوں میں شرکت
ایمان کی آواز میں

وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

کلام: عرش ملسیانی · محفل: ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی · 2026-11-01

وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھیسراسر راز راز کن فکاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

تحیر ہے حضوری میں تو بیتابی ہے دوری میںمصیبت میں یہ جان ناتواں یوں بھی ہے اور یوں بھی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیا Daam-e khayal zulf-e butaan se chhura liya صفی اورنگ آبادی غزل
  2. 02 نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتنا Na rota zaar zaar aisa na karta shor-o-shar itna صفی اورنگ آبادی غزل
  3. 03 خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھے Khirad se door gham-e-tund-khu mein achhe the خورشیدرضوی غزل
  4. 04 لب سے دل کا دل سے لب کا رابطہ کوئی نہیں Lab se dil ka dil se lab ka raabta koi nahin خورشیدرضوی غزل
  5. 05 رہی ہے پردۂ الفت میں مصلحت کیا کیا Rahi hai parda-e-ulfat mein maslahat kya kya خورشیدرضوی غزل
  6. 07 جو میرا ہوش کا عالم ہے بے خودی تو نہیں Jo mera hosh ka aalam hai bekhudi to nahin عرش ملسیانی غزل
  7. 08 کھینچ کر روشنی میں لایا گیا Kheench kar roshni mein laya gaya تنویر دانش
  8. 09 اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی Us ne kuchh der mohabbat kī adākarī kī تنویر دانش