دوستوں میں شمار کس کا ہے
کلام: زبیر قلزم
دوستوں میں شمار کس کا ہےآج کل اعتبار کس کا
کیا کہوں دشمنوں سے پوچھتے ہیںپیٹھ پیچھے یہ وار کس کا
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
دوستوں میں شمار کس کا ہےآج کل اعتبار کس کا
کیا کہوں دشمنوں سے پوچھتے ہیںپیٹھ پیچھے یہ وار کس کا
پھر گلہ یہ ہے جوابات غلطجب کے کرتے ہو سوالات غلط
مفلسی ایک ترے ہونے سےاپنے سارے ہیں کمالات غلط
جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوںنہ کوئی بھی جو سن سکے وہ صدا ہوں
پڑھو نفل گھر جا کے شکرانے کے تمبڑے ہی نصیبوں سے تم کو ملا ہوں