غزل 5 اشعار

ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک

Zulm sahte rahe shukr karte rahe aai lab tak na ye dastan aaj tak

ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تکمجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تک

عشق محو غم زندگی ہو گیا حسن مدہوش عشوہ طرازی رہااہل دل ہوش میں آ چکے ہیں مگر ہے وہی عالم دلبراں آج تک

ایسے گزرے ہیں اہل نظر راہ سے جن کے قدموں سے ذرے منور ہوئےاور ایسے منور جنہیں دیکھ کر رشک کرتی رہی کہکشاں آج تک

کاروانوں کے رہبر بنے راہزن پھر بھی منزل پہ کچھ راہرو آ گئےوہ نئے کاروانوں کے رہبر بنے جن سے ہے عظمت رہبراں آج تک

مشکلیں آفتیں حادثے سانحے آئے اخترؔ مری راہ میں کس قدرمجھ کو آگے بڑھاتا رہا ہے مگر میرا دل میرا عزم جواں آج تک

— اختر انصاری اکبر آبادی