نور مائیر کی آواز میں
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق · محفل: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق · 2026-01-15
«سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے
گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشیدہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے