مقرر · میزبان

نور مائیر

@babamaier

161
پیش کردہ کلام
129
محفلوں میں شرکت
نور مائیر کی آواز میں

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

کلام: شیخ ابراہیم ذوق · محفل: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق · 2026-01-15

«سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشیدہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی Dard ke pile gulabon ki thakan baqi rahi نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو Ajnabi Kis Khwab Ki Duniya Se Aaye Ho نصیر احمد ناصر نظم
  3. 03 شاداب شاخ درد کی ہر پور کیوں نہیں Shadab shakh-e-dard ki har por kyun nahin ضیاء جالندھری غزل
  4. 04 تیرے قول و قرار کی باتیں Tere qaul-o-qaraar ki baatein صفی اورنگ آبادی غزل
  5. 05 پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے Palat kar ashk soo-e-chashm-e-tar aata nahin hai خورشیدرضوی غزل
  6. 06 نہ فرات و دجلہ پہ ناز کر نہ فریب گنگ و جمن میں آ Na Furat o Dajla pe naaz kar na fareb Gang o Jaman mein aa عرش ملسیانی غزل
  7. 07 میں چاہتا ہوں کوئی دشت میں جلاے چراغ Main chahta hoon kothi dasht mein jalaye charagh تنویر دانش
  8. 08 عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیے Ishq phirta hai khushi apni chhupane ke liye زبیر قلزم آواز میں دستیاب