مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہےنہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہےنہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہےنہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہےنہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے
گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشیدہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے