5 اشعار

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

Sab ko duniya ki havas khwaar liye phirti hai

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

«سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشیدہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے

وہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردشکہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے

کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتلکہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے

جا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کوبے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں