نور مائیر کی آواز میں
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئےاے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے
شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاںآئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے