سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
کلام: کلیم عاجز
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئےاے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے
شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاںآئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئےاے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے
شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاںآئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے