8 اشعار

سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

Seene ke zakhm paon ke chhale kahan gae

سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

«سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئےاے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاںآئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے

خلوت میں روشنی ہے نہ محفل میں روشنیاہل وفا چراغ وفا لے کہاں گئے

بت خانے میں بھی ڈھیر ہیں ٹکڑے حرم میں بھیجام و سبو کہاں تھے اچھالے کہاں گئے

آنکھوں سے آنسوؤں کو ملی خاک میں جگہپالے کہاں گئے تھے نکالے کہاں گئے

برباد روزگار ہمارا ہی نام ہےآئیں تماشا دیکھنے والے کہاں گئے

چھپتے گئے دلوں میں وہ بن کر غزل کے بولمیں ڈھونڈھتا رہا مرے نالے کہاں گئے

اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔگرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں