امل خان کی آواز میں
ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی
کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21
«ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی» راکب مختار کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔
ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھیجب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئ تھی
کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھاتو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئ تھی