مقرر · کو ہوسٹ

امل خان

@bakhtawarkhan_0

135
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
امل خان کی آواز میں

ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی

کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21

«ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی» راکب مختار کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھیجب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئ تھی

کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھاتو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئ تھی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں Kitab-e-zeest mein chahat ke baab the hi nahin تنویر دانش
  2. 02 یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے Yeh munasib toh nahin tha ke tamasha karte زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تو Wafadari ki soorat mein jafa kaari ka naqsha tu مضطر خیرآبادی
  4. 04 طعنے Ta'ne اسماعیل راز
  5. 05 یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے Yahan kya hai wahan kya hai idhar kya hai udhar kya hai مبارک عظیم آبادی
  6. 06 خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری Khusha naseeb ke hai dil mein aarzoo teri ناشاد کانپوری
  7. 07 ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے Hum vasl mein aise khoye gaye furqat ka zamana bhool gaye کامل شطاری آواز میں دستیاب
  8. 08 گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں Gar tujhe rooh-e-rawaan rahat-e-jaan kehte hain رند لکھنوی