ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی
کلام: راکب مختار
ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھیجب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئ تھی
کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھاتو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئ تھی
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھیجب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئ تھی
کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھاتو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئ تھی