6 اشعار

ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی

Hue the bain fiza mein nami bikhar gai thi

ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی

«ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی» راکب مختار کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھیجب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئ تھی

کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھاتو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئ تھی

بس ایک پھول کھلا تھا عرب کے صحرا میںفضاۓ دہر کئ خوشبوؤں سے بھر گئ تھی

میں اپنے رنگ میں ثروت کو گنگنا رہا تھااور عین وقت پہ اک ریل بھی گزر گئ تھی

غم_معاش نے تقسیم کر دیا شاعرتمہاری شکل مرے ذہن سے اتر گئ تھی

میں اس کی قبر پہ کچھ اشک چھوڑ آیا ہوںجو خاص لڑکی محبت کو عام کر گئ تھی

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں