امل خان کی آواز میں
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
کلام: امجد اسلام امجد · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئےوہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے
یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہوہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے