امل خان کی آواز میں
مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔
مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیامگر اُس نگاہ کا ذائقہ مِرے پات پات میں رہ گیا
کِسی گہری نیند کی رسّیوں سے بندھا ہُوا تھا مِرا وجودمَیں چلا تو آیا سویر تک مگر آدھا رات میں رہ گیا