10 اشعار

مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا

Meri shaakh shaakh thi be-samar, so woh sang haath mein reh gaya

مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا

«مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیامگر اُس نگاہ کا ذائقہ مِرے پات پات میں رہ گیا

کِسی گہری نیند کی رسّیوں سے بندھا ہُوا تھا مِرا وجودمَیں چلا تو آیا سویر تک مگر آدھا رات میں رہ گیا

اِسی کُنجِ تیرہ میں بیٹھ کر یُونہی گُھورتا ہوں چٹان کووہ تری تلاش میں کیا نکلتا جو غارِ ذات میں رہ گیا!

تجھے کیا خبر! کہ ہم ایک ساتھ اُسی کے ملبے میں دب چُکےوہ مکان جو کہِیں مُسترد شُدہ نقشہ جات میں رہ گیا

مجھے کون جار میں رکھ گیا جہاں لمس تک کو ترستا ہوں!مَیں: نئے زمانے کا سکّہ، کیسے نوادرات میں رہ گیا!

یُونہی بیٹھے بیٹھے ہم ایک رات شکار بن گئے ہجر کامَیں کسی کی گھات میں رہ گیا، کوئی میری گھات میں رہ گیا

مِری گاچنی لگی تختیاں تری روشنائی سے بھر گئیںجو قلم رکھا تھا دوات میں وہ یُونہی دوات میں رہ گیا

کوئی کھود پائے یہ شہرِچشم تو منکشف ہو یہ راز بھیکہ ترا خزینہ بھی میرے خوابوں کی باقیات میں رہ گیا

مَیں عجب مزاج کا شعر تھا، مِری کیفیت تھی الگ تھلگمجھے شاہکار غزل میں ڈھلنا تھا، فردیات میں رہ گیا

اُسے دُوربینِ تخیّلات سے دیکھتا ہوں مَیں رات بھرکوئی، کہکشاں سے نِکل کے بھی، مِری کائنات میں رہ گیا

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں