اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی
کلام: سعید شارق
اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتیرَش اتنا زِیادہ ہے، سَڑک ہی نہیں کُھلتی!
یُوں بھینچ کے رکھّا ہے تِری یاد کا سِکّہاَب کھولنا چاہوں بھی تو مُٹّھی نہیں کھُلتی