کریسنٹ کی آواز میں
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
کلام: خواجہ میر درد · محفل: باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد) · 2025-12-11
«ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا
سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرمااس طرف کو کبھو گزر نہ کیا