ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
کلام: خواجہ میر درد
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا
سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرمااس طرف کو کبھو گزر نہ کیا
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا
سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرمااس طرف کو کبھو گزر نہ کیا
سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کوشہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کو
نہیں ممکن کہ ہم سے ظلمت امکان زائل ہوچھڑا دے آہ کوئی کیوں کے زنگی سے سیاہی کو
چھوٹی سی غلط فہمی کر دے گی جدا ہم کوحالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو
رشتوں کی ہمیں اتنی پہچان نہ تھی پہلےکہنے کو مراسم تھے اپنے بہت گہرے