کریسنٹ کی آواز میں
نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے
کلام: عمیر نجمی · محفل: نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی) · 2026-01-01
«نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔
نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہےیقین کر! تری بے پردگی، حجاب ہی ہے
تمہارا ساتھ، اک اعزازی عہدہ ہے، جس میںکچھ اختیار نہیں، صرف رعب داب ہی ہے