9 اشعار

نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے

Nazar thehrti nahin hai, rukh aaftaab hi hai

نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے

«نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہےیقین کر! تری بے پردگی، حجاب ہی ہے

تمہارا ساتھ، اک اعزازی عہدہ ہے، جس میںکچھ اختیار نہیں، صرف رعب داب ہی ہے

ہماری اونگھ، کبھی نیند تک گئی ہی نہیںسو خواب دیکھنا، تاحال، ایک خواب ہی ہے

قسم خدا کی! بڑی دیر کچھ نہیں دِکھتابہ غور اُس کی طرف دیکھنا، عذاب ہی ہے

میں کچھ بھی پوچھے بغیر اُٹھ کے آگیا واپسسمجھ گیا تھا اُسے دیکھ کر، جواب ہی ہے!

مرا بدن بھی کم و بیش ہے زمیں کی طرحکہ دو تہائی، کم از کم، تو زیرِ آب ہی ہے

خراب رستے پہ تختی دِکھی تو رک کے پڑھیلکھا تھا: "رستہ یہی ہے مگر خراب ہی ہے"

ہم ایک ہاتھ کی دوری پہ ساتھ پھرتے ہیںوہ دسترس میں نہیں، صرف دستیاب ہی ہے

تری طلب اگر آسودگی ہے، رب راکھا!ہمارے پاس تو، لے دے کے، اضطراب ہی ہے

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں