افتخار احمد کی آواز میں
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر» سعید شارق کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پرکہ ہاتھ رکھّا کسی ڈر نے میرے شانے پر
مَیں اُس کے سامنے نظریں جُھکائے بیٹھا ہوںمگر بضِد ہے وہ آئینہ ٹُوٹ جانے پر