ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر
کلام: سعید شارق
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پرکہ ہاتھ رکھّا کسی ڈر نے میرے شانے پر
مَیں اُس کے سامنے نظریں جُھکائے بیٹھا ہوںمگر بضِد ہے وہ آئینہ ٹُوٹ جانے پر
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پرکہ ہاتھ رکھّا کسی ڈر نے میرے شانے پر
مَیں اُس کے سامنے نظریں جُھکائے بیٹھا ہوںمگر بضِد ہے وہ آئینہ ٹُوٹ جانے پر
تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑیسو تیشہء نگاہ سے اِک مُورتی گھڑی
کَب سے مُصِر تھا کھیلتے رَہنے پہ کوئی پَلمَیں نے بھی کھیل کھیل ہی میں توڑ دی گھڑی
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!شعلۂ ہستِ بے نمود! کیا یہ ترا زیاں نہیں؟
کون سُنے گا وقت اور جسم کا یہ مکالمہ:-’’زخم کوئی بھرا؟‘‘ نہیں! : ’’ختم ہُوا نشاں؟‘‘ نہیں!