8 اشعار

ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر

Abhi nigah padi bhi na thi khazane par

ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر

«ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر» سعید شارق کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پرکہ ہاتھ رکھّا کسی ڈر نے میرے شانے پر

مَیں اُس کے سامنے نظریں جُھکائے بیٹھا ہوںمگر بضِد ہے وہ آئینہ ٹُوٹ جانے پر

اِسے خبر نہیں اندر سے رات ہوں اب تکچراغ خُوش ہے مِری روشنی بڑھانے پر

ذرا سی دیر چُھپا تھا مَیں کوہِ رفتہ میںکہ اک چٹان گِری غار کے دہانے پر

پڑا ہوں شیشۂ ہستی پہ گرد کے مانندنہ جانے کیا نظر آئے مجھے ہٹانے پر!

کھلونا ٹُوٹنے والا ہے کھینچا تانی میںجھگڑ پڑی ہیں مِری آنکھیں نیند آنے پر

نہ جانے کب مَیں ترے باغ سے چلا جاتا!سو مطمئن ہوں بہت، اپنے پَر کٹانے پر

مَیں رات دن یہی ملبہ ہٹاتا رہتا ہوںگِرے ہوئے ہیں زمانے مِرے زمانے پر

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں