افتخار احمد کی آواز میں
اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
کلام: منیرنیازی · محفل: کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر) · 2025-12-26
«اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو» منیرنیازی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔
اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یادتنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو