مقرر

افتخار احمد

@jawabdeyh

322
پیش کردہ کلام
132
محفلوں میں شرکت
افتخار احمد کی آواز میں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26

«دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیںلیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تاریخ ٹسوے بہائے گی Tareekh Tasway Bahaye Gi نصیر احمد ناصر نظم
  2. 02 عرابچی سو گیا ہے Araabchi So Gaya Hai نصیر احمد ناصر نظم
  3. 03 تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے Teri yaadon ka yehi dard mera sarmaya hai راجا اکرام قمر آواز میں دستیاب
  4. 04 ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر Nadim bagh mein josh-e-numu ki baat na kar اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  5. 05 درد فرقت کو کیا کرے کوئی Dard-e furqat ko kya kare koi صفی اورنگ آبادی غزل
  6. 06 ہائے اس بے خود شباب کا رنگ Haye us be khud shabaab ka rang صفی اورنگ آبادی غزل
  7. 07 خانۂ دل میں داغ جل نہ سکا Khana-e dil mein daagh jal na saka عرش ملسیانی غزل
  8. 08 محبت جب ضروری تھی Mohabbat jab zaroori thi تنویر دانش