5 اشعار

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

Dil ki baat labon par la kar ab tak hum dukh sehte hain

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

«دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیںلیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیںدنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئےآج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھااس آوارہ دیوانے کو جالبؔ جالبؔ کہتے ہیں

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں