اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیامجھ کو انسان سے اوتار کیا
دشت غربت میں دل ویراں نےیاد جمنا کو کئی بار کیا
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیامجھ کو انسان سے اوتار کیا
دشت غربت میں دل ویراں نےیاد جمنا کو کئی بار کیا
اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میںوہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں
کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگاجو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، سینوں میں
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیںلیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں
ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہمدل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہم
اب نام رہے یا نہ رہے عشق میں اپناروداد وفا دار پہ دہرا تو گئے ہم
بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانامگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولانا
خدارا شکر کی تلقین اپنے پاس ہی رکھیںیہ لگتی ہے مرے سینے پہ بن کر تیر مولانا
زنداناں دے در نہیں کُھلدے ہنجُواں ہاواں نالسجناں ایہہ تاں کھلن گے لوہے دیاں باہواں نال
ویکھ زمانہ گل کردا اے اج ہوَاوَاں نالمنزل تیرے ہتھ نہیں آؤنی صرف دعاواں نال