افتخار احمد کی آواز میں
امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔
امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیںعشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں
ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیامسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں