6 اشعار

امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں

Imtihan-e-shauq mein sabit qadam hota nahin

امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں

«امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیںعشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیامسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں

جو ستم ہم پر ہے اس کی نوعیت کچھ اور ہےورنہ کس پر آج دنیا میں ستم ہوتا نہیں

تم جہاں ہو بزم بھی ہے شمع بھی پروانہ بھیہم جہاں ہوتے ہیں یہ ساماں بہم ہوتا نہیں

رات بھر ہوتی ہیں کیا کیا انجمن آرائیاںشمع کا کوئی شریک صبح غم ہوتا نہیں

مانگتا ہے ہم سے ساقی قطرے قطرے کا حسابغیر سے کوئی حساب بیش و کم ہوتا نہیں

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں