تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے
تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہےہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہے
بیگانہ سمجھو غیر کہو اجنبی کہواپنوں میں تھا شمار ابھی کل کی بات ہے
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہےہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہے
بیگانہ سمجھو غیر کہو اجنبی کہواپنوں میں تھا شمار ابھی کل کی بات ہے
امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیںعشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں
ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیامسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گےستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے
دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گےاندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہےاب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے
لوگ اپنے در و دیوار سے ہوشیار رہیںآج دیوانے کا گھر جانے کو جی چاہے ہے