مقرر

افتخار احمد

@jawabdeyh

322
پیش کردہ کلام
132
محفلوں میں شرکت
افتخار احمد کی آواز میں

جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے

کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25

«جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گےستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے

دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گےاندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تاریخ ٹسوے بہائے گی Tareekh Tasway Bahaye Gi نصیر احمد ناصر نظم
  2. 02 عرابچی سو گیا ہے Araabchi So Gaya Hai نصیر احمد ناصر نظم
  3. 03 تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے Teri yaadon ka yehi dard mera sarmaya hai راجا اکرام قمر آواز میں دستیاب
  4. 04 ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر Nadim bagh mein josh-e-numu ki baat na kar اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  5. 05 درد فرقت کو کیا کرے کوئی Dard-e furqat ko kya kare koi صفی اورنگ آبادی غزل
  6. 06 ہائے اس بے خود شباب کا رنگ Haye us be khud shabaab ka rang صفی اورنگ آبادی غزل
  7. 07 خانۂ دل میں داغ جل نہ سکا Khana-e dil mein daagh jal na saka عرش ملسیانی غزل
  8. 08 محبت جب ضروری تھی Mohabbat jab zaroori thi تنویر دانش