افتخار احمد کی آواز میں
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گےستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے
دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گےاندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے