7 اشعار

جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے

Juda jab tak teri zulfon se pech o kham nahin honge

جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے

«جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گےستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے

دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گےاندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے

دلاسے ان کے جو درد آشنائے غم نہیں ہوں گےنمک ہی ہوں گے دل کے زخم پر مرہم نہیں ہوں گے

اگر بڑھتا رہا یوں ہی یہ سودائے ستم گاریتمہی رسوا سر بازار ہو گے ہم نہیں ہوں گے

جناب شیخ پر افسوس ہے ہم نے تو سمجھا تھاحرم کے رہنے والے ایسے نامحرم نہیں ہوں گے

ادھر آؤ تمہاری زلف ہم آراستہ کر دیںجو گیسو ہم سنواریں گے کبھی برہم نہیں ہوں گے

اگرچہ عشق میں مرنے کا خطرہ ہی زیادہ ہےمگر مرنے کے ڈر سے مرنے والے کم نہیں ہوں گے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں