افتخار احمد کی آواز میں
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
کلام: نوشی گیلانی · محفل: اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی) · 2025-12-25
«خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھاجب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا
تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میںپہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا