پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہےوہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے
محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیںکہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہےوہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے
محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیںکہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہےاب اس کی مرضی
کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دےبہار کو انتظار لکھ دے
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھاجب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا
تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میںپہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا
یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گاغرور لہجے میں آ گیا تو کلام ممکن نہیں رہے گا
یہ برف موسم جو شہر جاں میں کچھ اور لمحے ٹھہر گیا تولہو کا دل کی کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا
بھولتا کون ہےوقت کے گھاؤ کو
ہجر کے تندطوفان کی بے یقین لہر میںوصل کے خواب کی ڈوبتی ناؤ کو
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرناجو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیںمگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
مجھ کو رسوا سر محفل تو نہ کروایا کرےکاش آنسو مری آنکھوں میں ہی رہ جایا کرے
اے ہوا میں، میں تو بس اس کا پتہ پوچھا تھااب کہانی تو نہ ہر بار کی بن جایا کرے
دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکنآنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے