6 اشعار

خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا

Khwab ke qaidi rahe to kuch nazar aata na tha

خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا

«خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھاجب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا

تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میںپہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا

ہم وہ محرومِ سفر ہیں دشتِ خواہش میں جنہیںاک حصارِ درو دیوار میں رکھا گیا

بر ملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہیپھر وہاں جو لوگ سچے تھے انہیں روکا گیا

ہم وہ بے منزل مسافر ہیں جنہیں ہر حال میںہم سفر رکھا گیا اور بے نوا رکھا گیا

کھا گیا شوقِ زورِ بزم آرائی اسےصاحبِ فہم و فراست تھا مگر تنہا گیا

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں