افتخار احمد کی آواز میں
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہےاب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے
لوگ اپنے در و دیوار سے ہوشیار رہیںآج دیوانے کا گھر جانے کو جی چاہے ہے