9 اشعار

کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے

Ku-e-Qatil Hai Magar Jane Ko Ji Chaahe Hai

کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے

«کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہےاب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

لوگ اپنے در و دیوار سے ہوشیار رہیںآج دیوانے کا گھر جانے کو جی چاہے ہے

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئےزندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

دل کو زخموں کے سوا کچھ نہ دیا پھولوں نےاب تو کانٹوں میں اتر جانے کو جی چاہے ہے

چھاؤں وعدوں کی ہے بس دھوکا ہی دھوکا اے دلمت ٹھہر گرچہ ٹھہر جانے کو جی چاہے ہے

زندگی میں ہے وہ الجھن کہ پریشاں ہو کرزلف کی طرح بکھر جانے کو جی چاہے ہے

قتل کرنے کی ادا بھی حسیں قاتل بھی حسیںنہ بھی مرنا ہو تو مر جانے کو جی چاہے ہے

جی یہ چاہے ہے کہ پوچھوں کبھی ان زلفوں سےکیا تمہارا بھی سنور جانے کو جی چاہے ہے

رسن و دار ادھر کاکل و رخسار ادھردل بتا تیرا کدھر جانے کو جی چاہے ہے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں