افتخار احمد کی آواز میں
مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا
کلام: افتخارعارف · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30
«مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔
مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہناکہیں طے پا رہا ہے شہر کا مسمار رہنا
نمودِ خواب کے اور انہدامِ خواب کے بیچقیامت مرحلہ ہے دل کا ناہموار رہنا